1️⃣ پاک بھارت ٹاکرا برقرار: ٹی20 ورلڈ کپ 2026 کا بڑا مقابلہ 15 فروری کو کولمبو میں





پاکستان اور بھارت کے درمیان 2026 کے ٹی20 ورلڈ کپ کے گروپ میچ پر جاری دس روزہ تعطل بالآخر ختم ہوگیا۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے شدت اختیار کرلی تھی، تاہم منگل کی شام پاکستان حکومت اور آئی سی سی کے بیک وقت بیانات کے بعد تصدیق کردی گئی کہ دونوں ٹیموں کے درمیان میچ 15 فروری کو کولمبو میں شیڈول کے مطابق کھیلا جائے گا۔ یہ مقابلہ ٹورنامنٹ کا سب سے نمایاں اور مالی لحاظ سے اہم ترین میچ سمجھا جا رہا ہے۔

پاکستانی حکومت کے بیان میں کہا گیا کہ آئی سی سی کے کئی رکن ممالک، جن میں سری لنکا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) سے اپیل کی کہ وہ میچ کا بائیکاٹ نہ کرے کیونکہ اس سے دیگر کرکٹ بورڈز کو مالی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر سری لنکا کے صدر کمارا ڈسانایاکے سے رابطہ کیا۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق، "کثیر الجہتی مشاورت اور دوست ممالک کی درخواستوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے قومی ٹیم کو ہدایت دی ہے کہ وہ 15 فروری 2026 کو آئی سی سی مینز ٹی20 ورلڈ کپ کے تحت اپنا شیڈول میچ کھیلے۔ یہ فیصلہ کھیل کے فروغ، اس کی ساکھ کے تحفظ اور عالمی سطح پر کرکٹ کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔"

دوسری جانب آئی سی سی نے بھی تصدیق کی کہ تمام فریقین کے درمیان بات چیت مثبت اور تعمیری رہی۔ عالمی ادارے کے مطابق، تمام اراکین نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ ایونٹ میں شرکت سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کا احترام کریں گے اور ٹورنامنٹ کی کامیابی کے لیے مل کر کام کریں گے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے اپنے مؤقف کو بنگلہ دیش کے معاملے سے بھی جوڑا تھا۔ بنگلہ دیش کو بھارت میں کھیلنے سے انکار پر ٹی20 ورلڈ کپ سے باہر کیا گیا تھا، تاہم آئی سی سی نے بعد میں ان پر کسی قسم کی پابندی عائد نہ کرنے کا اعلان کیا۔ مزید برآں، بنگلہ دیش کو 2028 سے 2031 کے سائیکل میں ایک اضافی آئی سی سی ایونٹ کی میزبانی بھی دے دی گئی۔ پی سی بی نے اس معاملے پر بنگلہ دیش کی حمایت کی تھی اور وہ کسی بھی حل میں ان کے لیے ریلیف شامل کرنے کا خواہاں تھا۔

ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ مذاکرات کے دوران آئی سی سی کی آمدنی کی تقسیم کے ماڈل پر بھی بات ہوئی، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری بیان میں ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس، بھارت کے ساتھ کسی دوطرفہ یا سہ فریقی سیریز کو شرط بنانے کی خبروں کی پی سی بی نے تردید کی ہے۔

گزشتہ چند روز میں پسِ پردہ رابطوں میں تیزی آئی، جس کے بعد لاہور میں پی سی بی چیئرمین محسن نقوی، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے چیئرمین امین الاسلام اور آئی سی سی ڈائریکٹر عمران خواجہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ اسی دوران آئی سی سی نے بنگلہ دیش کے خلاف کسی کارروائی سے گریز کا اعلان کیا، جس کے بعد بی سی بی نے پی سی بی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پاکستان سے بھارت کے خلاف میچ کھیلنے کی درخواست بھی کی۔

آخرکار تمام سفارتی اور انتظامی کوششوں کے بعد یہ تعطل ختم ہوگیا اور اب شائقین کو 15 فروری کو کولمبو میں روایتی حریفوں کے درمیان ایک بڑا مقابلہ دیکھنے کو ملے گا۔ 

Post a Comment

0 Comments