
atOptions = {
'key' : '6fa37dd7f181e18726dea3c13811c63d',
'format' : 'iframe',
'height' : 600,
'width' : 160,
'params' : {}
};
☢️ جوہری معاہدے پر ایران کا مؤقف
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران ہمیشہ ایسے شفاف جوہری معاہدے کا حامی رہا ہے جس میں جوہری ہتھیاروں کی اجازت نہ ہو اور جو ایران کے جائز حقوق کی ضمانت دے۔
انہوں نے واضح کیا کہ دباؤ یا دھمکیوں کے ذریعے ایران کو کسی معاہدے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
⚠️ امریکی حملے کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے مشیر علی شامخانی نے بھی امریکا کو سخت خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا نے فوجی کارروائی کی تو ایران صرف خاموش تماشائی نہیں بنے گا بلکہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
علی شامخانی کے مطابق امریکا کی جانب سے محدود حملے کی باتیں محض ایک فریب ہیں، جبکہ ایران کا ردعمل فوری، مکمل اور مثال بننے والا ہوگا۔
🚢 امریکی بحری بیڑے کی پیش قدمی
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک طاقتور امریکی بحری بیڑا ایران کی سمت بڑھ رہا ہے، جس کی قیادت معروف طیارہ بردار بحری جہاز ابراہم لنکن کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ بحری بیڑا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور سخت کارروائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
🤝 مذاکرات کی امید یا دباؤ کی سیاست؟
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایران جلد مذاکرات کی میز پر آئے اور ایک ایسا معاہدہ طے پائے جو منصفانہ، مساوی اور تمام فریقین کے لیے بہتر ہو، جس میں ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں
تاہم ایران کی جانب سے دیے گئے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ تہران دباؤ کی پالیسی کے بجائے برابری اور خودمختاری کی بنیاد پر بات چیت کا خواہاں ہے۔
0 Comments